پہلے حصّے میں،میں نے امامِ اہلسُنّت امام احمد رضاخاں رحمۃاللہ علیہ کے بارے میں انتہائی اختصار کے ساتھ چند باتیں عرض کرنے کی کوشش کی تا کہ وہ عوامِ اہلسُنّت جو امامِ اہلسُنّت کی شخصیت سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے ان کو پتہ چل سکے کہ ہم کس عظیم ہستی کے پیرو کار ہیں۔ چونکہ ایک یا چند ہی نششتوں میں امامِ اہلسُنّت کی شخصیت کو بیان کر دینا ممکن نہیں اسلئے اپنی آئندہ آنے والی تحریروں میں آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر علماء اہلسُنّت کی آراء کے مطابق روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔
مثال کے طور پر مزاراتِ اولیاء رحمہم اللہ کے حوالے سے ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ لوگ وہاں پرقبروں کو سجدے کرتے ہیں اور ساتھ میں کچھ تصویریں اور ویڈیوز بھی دکھا دی جاتی ہیں جن کو دیکھ کر میرا بھولا بھالا سنّی پریشان ہو جاتا ہے کہ واقعی یہ غلط ہو رہا ہے،اور وہ اپنے عقائد کے حوالے سے چکرا کے رہ جاتا ہے اور اس سے کوئی بھی واضح جواب نہیں بن پڑتا،اب اگر آپ سنّی ہیں اور آپ سے پوچھا جائے کہ کیا آپ قبر یا مزار پر جا کر سجدہ کر تے ہیں تو آپ فوراََ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے نا کردیں گے، تو جناب جس طرح آپ اور میں مزاراتِ اولیاء پر جا کر سجدہ نہیں کرتے اسی طرح کوئی بھی سمجھدار سنّی ایسا نہیں کرتا، اور چند جاہل اور کم علم لوگوں کے ذاتی فعل کو رضا خانی مذہب یا بریلویت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ میرے امام ِ اہلِسُنّت نے چالیس احادیث کے حوالے دے کر ایک مکمل کتاب اس موضوع پر لکھی،اور آپ کے فتو ٰی کے مطابق قبر یا مزاریا کسی زندہ کو سجدہ اگر عبادت کی نیّت سے ہو تو شرک اور اگر تعظیم کی نیّت سے ہو تو حرام ہے،اور حاضریءِ قبور کے حوالے سے امام ِ اہلسنت نے لکھا ہے کہ زائر کو چاہیے کہ قبر سے چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو کر دعا کرے۔اس لیے کبھی بھی علماء اہلسنت نے مزارات پر سجدہ کرنے کو جائز نہیں کہا اور جو کوئی بھی ایسا کام کرے اُس کے اِس فعل کا مسلکِ اعلیٰحضرت یا مسلکِ اہلسنت سے کوئی تعلّق نہیں۔اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر ایک تفریق یہ کر دی گئی ہے کہ جو سنّی ہیں وہ ڈھول باجے بجاتے ہیں اور جو وہابی یا اہلحدیث ہیں وہ ایسا نہیں کرتے، ایک بات یاد رہے کہ سنّی ہو یا کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا ہو اسلام میں کسی کو بھی ڈھول باجے بجانے کی اجازت نہیں ہے اور یہ سب گناہ اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں اس لیے جو بھی ایسا کرتا ہے اسے ان کاموں سے توبہ کرنی چاہیے۔ اسی طرح عرس ہو یا میلا، مزاراتِ اولیاء رحمہم اللہ پر ڈھول،بھنگڑے اور ناچ گانے کی اسلام اور اہلسنت میں کوئی گنجائش نہیں ہے لہٰذا جو بھی ایسا کرے گا خواہ وہ سنّی ہو یا کوئی اور وہ گنہگار اور مستحق عذاب الناّر ہے۔
الغرض امام اہلسنت نے ہر معاملے میں ہماری قرآن و سنت کے مطابق واضح اور بہتریں راہنمائی فرمائی ہے لیکن مخالفیں نے ہر غلط کام کو امام احمد رضا کے کھاتے میں ڈال دیا، حالانکہ میرے امام کا ان کاموں سے دور کا بھی واسطہ نہیں، اور میرے امام نے جو کام کیے اور جن کاموں کے کرنے کی ہمیں ترغیب دلائی ہے ان کو آپ نے مستند دلائل سے ثابت کیا ہے اور ایسا ثابت کیاہے کہ کوئی بھی ان پر انگلی نہیں اُٹھا سکتا۔ اگر عوام اہلِسنت، امام ِ اہلسنت کی تعلیمات سے واقفیّت حاصل کر کے اپنے معمولات کو آپ کی تعلیمات کے مطابق ڈھال لیں تو نہ کوئی ہم پر اعتراض کر سکے گا اور نہ ہی کوئی ہمیں آپس میں لڑا سکے گا۔ہمارے امام نے زندگی کے ہر شعبے میں ہماری ایسی راہنمائی فرمائی کہ ہمیں در در پر جانے کی حاجت نہیں ہے فقط ضرورت ہے تو خوابِ غفلت سے جاگنے کی اور فکرِ رضا کو اپنانے کی کیونکہ میرے امام ِ اہلسنت فرما گئے ہیں کہ:۔
سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صاف چُرا لیں یا وہ چور بلا کے ہیں تیری گٹھری تاکی ہے اور تُو نے نیند نکالی ہے
سونا پاس ہے سُونا پن ہے سونا زہر ہے اُٹھ پیارے تُو کہتا ہے نیند ہے میٹھی تیری مت ہی نرالی ہے
آنکھیں مَلنا،جُنجھلا پڑنا، لاکھوں جماہی، انگڑائی نام پراُٹھنے کے لڑتا ہے اُٹھنا بھی کچھ گالی ہے


No comments:
Post a Comment