Friday, 3 November 2017

امامِ اہلسُنّت، عوامِ اہلسُنّت اور عقائدِ اہلسُنّت (2)



پہلے حصّے میں،میں نے امامِ اہلسُنّت امام احمد رضاخاں رحمۃاللہ علیہ کے بارے میں انتہائی اختصار کے ساتھ چند باتیں عرض کرنے کی کوشش کی تا کہ وہ عوامِ اہلسُنّت جو امامِ اہلسُنّت کی شخصیت سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے ان کو پتہ چل سکے کہ ہم کس عظیم ہستی کے پیرو کار ہیں۔ چونکہ ایک یا چند ہی نششتوں میں امامِ اہلسُنّت کی شخصیت کو بیان کر دینا ممکن نہیں اسلئے اپنی آئندہ آنے والی تحریروں میں آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر علماء اہلسُنّت کی آراء کے مطابق روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔
اب بات کرتے ہیں عوامِ اہلِسُنّت کی جس کی اکثریت اپنی حقیقت سے ہی نا واقف ہے کہ آخر ہم کس عظیم امام کے پیرو کار ہیں،کیسے کیسے عظیم القدر بزرگ ہمارے مسلک کی زینت ہیں اور ہمارے عقائد کس قدر صاف شفّاف اور واضح ہیں۔ اس کی بڑی وجہ مستند علماء اہلسُنّت کا دستیاب نہ ہونا بھی ہے،کیونکہ خاص کر گاؤں اور دیہات میں صحیح اور باقاعدہ طور پر کسی دینی درسگاہ سے پڑھے ہوئے علماء تقریباََ ناہونے کے برابر ہیں، زیادہ ترنام نہاد مولوی ٹائپ کے امام مسجد ہوتے ہیں جو کہ عوام کی راہنمائی کا حق اچھی طرح سے ادا ہی نہیں کر سکتے،اور امامت یا نوکری بچانے کی خاطر واضح اور حق بات کہنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ اور رہی سہی کسر ہم لوگ خود پوری کر دیتے ہیں کہ جب کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو چند دوست یا لوگ جن کو دینی مسائل کے بارے میں معمولی سا بھی علم نہیں ہوتا،اپنی نماز تک درست نہیں پڑھنی آتی،وہ آپس میں بحث کرتے ہیں اور اپنی اٹکل اور منطق سے خود ہی اس مسئلے کو حل کر لیتے ہیں اور کسی مستند عالمِ دین کو پوچھنے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتے۔اور جب یہی اپنی اٹکل سے حل کیے ہوئے اور خود ساختہ مسئلے اور طریقے عوام میں آہستہ آہستہ رائج ہو جاتے ہیں تو پھر بات آ جاتی ہے علماء پر،اور اعتراض مذہبی شخصیات پر اُٹھتے ہیں،انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں تو اہلسنت پر، اور بُرا بھلا کہا جاتا ہے تو مذہب کو اور اپنی جہالت کی وجہ سے غلط بات یا طریقہ رائج کرنے والے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔اے عوامِ اہلسنت  آپ سے ہاتھ جوڑکر عرض ہے کہ جب اپنا مکان بنانا ہو تو کسی اچّھے معمار کو تلاش کرتے ہو، گاڑی ٹھیک کروانی ہو تو کسی تجربہ کار مکینک کے پاس جاتے ہو،بچے کو سکول داخل کروانا ہو تو سب سے اچھے ادارے کا انتخاب کرتے ہو،اگر بیمار ہو جاؤ تو اسپیشلسٹ ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہوالغرض ہر کام میں بہترین کی تلاش میں رہتے ہو تو کیا ہمارے ایمان کو کسی اسپیشلسٹ کی ضرورت نہیں کہ بغیر علم و عمل اور عقائد کو جانچے جسے جی چاہے امام بنا لیتے ہو،  ایک تو اپنی مساجد میں صحیح اور مستند سنّی ادارے سے پڑھے ہوئے آئمہ اکرام کو لایا کریں جو آپ کی صحیح راہنمائی کر سکیں، اور پھر کسی بھی مسئلے کو اپنی عقل و فہم اور ناقص علم کے مطابق حل کرنے کی بجائے کسی مستند سُنّی عالم ِ دین سے رُجوع کیا کریں، ویسے بھی غیرِ عالم کاشرعی مسائل میں بحث کرنا حرام ہے۔ آج سب سے زیادہ انگلیاں عوام ِ اہلسنت اور مسلک اہلسنت پر ہی اٹھائی جاتی ہیں،جتنے بھی غلط کام عوام ِ اہلسنت اپنی کم علمی کی وجہ سے کرتے ہیں سب کے سب مسلک اہلسنت اور امامِ اہلسنت کے سر تھوپ دیے جاتے ہیں حالانکہ اعتراض کرنے والے جن باتوں پر کسی ایک وجہ سے اعتراض کرتے ہیں میرے اور آپ کے امام، امامِ اہلسنت امام احمد رضا خاں نے انہی غلط باتوں کو مٹانے اور ختم کرنے کے لیے پوری پوری کتاب لکھ کر ان کا رد کیا ہے۔

مثال کے طور پر مزاراتِ اولیاء رحمہم اللہ کے حوالے سے ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ لوگ وہاں پرقبروں کو سجدے کرتے ہیں اور ساتھ میں کچھ تصویریں اور ویڈیوز بھی دکھا دی جاتی ہیں جن کو دیکھ کر میرا بھولا بھالا سنّی پریشان ہو جاتا ہے کہ واقعی یہ غلط ہو رہا ہے،اور وہ اپنے عقائد کے حوالے سے چکرا کے رہ جاتا ہے اور اس سے کوئی بھی واضح جواب نہیں بن پڑتا،اب اگر آپ سنّی ہیں اور آپ سے پوچھا جائے کہ کیا آپ قبر یا مزار پر جا کر سجدہ کر تے ہیں تو آپ فوراََ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے نا کردیں گے، تو جناب جس طرح آپ اور میں مزاراتِ اولیاء پر جا کر سجدہ نہیں کرتے اسی طرح کوئی بھی سمجھدار سنّی ایسا نہیں کرتا، اور چند جاہل اور کم علم لوگوں کے ذاتی فعل کو رضا خانی مذہب یا بریلویت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ میرے امام ِ اہلِسُنّت نے چالیس احادیث کے حوالے دے کر ایک مکمل کتاب اس موضوع پر لکھی،اور آپ کے فتو ٰی کے مطابق قبر یا مزاریا کسی زندہ کو سجدہ اگر عبادت کی نیّت سے ہو تو شرک اور اگر تعظیم کی نیّت سے ہو تو حرام ہے،اور حاضریءِ قبور کے حوالے سے امام ِ اہلسنت نے لکھا ہے کہ زائر کو چاہیے کہ قبر سے چار  ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو کر دعا کرے۔اس لیے کبھی بھی علماء اہلسنت نے مزارات پر سجدہ کرنے کو جائز نہیں کہا اور جو کوئی بھی ایسا کام کرے اُس کے اِس فعل کا مسلکِ اعلیٰحضرت یا مسلکِ اہلسنت سے کوئی تعلّق نہیں۔اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر ایک تفریق یہ کر دی گئی ہے کہ جو سنّی ہیں وہ ڈھول باجے بجاتے ہیں اور جو وہابی یا اہلحدیث ہیں وہ ایسا نہیں کرتے، ایک بات یاد  رہے کہ سنّی ہو یا کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا ہو اسلام میں کسی کو بھی ڈھول باجے بجانے کی اجازت نہیں ہے اور یہ سب گناہ اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں اس لیے جو بھی ایسا کرتا ہے اسے ان کاموں سے توبہ کرنی چاہیے۔ اسی طرح عرس ہو یا میلا، مزاراتِ اولیاء رحمہم اللہ پر ڈھول،بھنگڑے اور ناچ گانے کی اسلام اور اہلسنت میں کوئی گنجائش نہیں ہے لہٰذا جو بھی ایسا کرے گا خواہ وہ سنّی ہو یا کوئی اور وہ گنہگار اور مستحق عذاب الناّر ہے۔
الغرض امام اہلسنت نے ہر معاملے میں ہماری قرآن و سنت کے مطابق واضح اور بہتریں راہنمائی فرمائی ہے لیکن مخالفیں نے ہر غلط کام کو امام احمد رضا کے کھاتے میں ڈال دیا، حالانکہ میرے امام کا ان کاموں سے دور کا بھی واسطہ نہیں، اور میرے امام نے جو کام کیے اور جن کاموں کے کرنے کی ہمیں ترغیب دلائی ہے ان کو آپ نے مستند دلائل سے ثابت کیا ہے اور ایسا ثابت کیاہے کہ کوئی بھی ان پر انگلی نہیں اُٹھا سکتا۔ اگر عوام اہلِسنت، امام ِ اہلسنت کی تعلیمات سے واقفیّت حاصل کر کے اپنے معمولات کو آپ کی تعلیمات کے مطابق ڈھال لیں تو نہ کوئی ہم پر اعتراض کر سکے گا اور نہ ہی کوئی ہمیں آپس میں لڑا سکے گا۔ہمارے امام نے زندگی کے ہر شعبے میں ہماری ایسی راہنمائی فرمائی کہ ہمیں در در پر جانے کی حاجت نہیں ہے فقط ضرورت ہے تو خوابِ غفلت سے جاگنے کی اور فکرِ رضا کو اپنانے کی کیونکہ میرے امام ِ اہلسنت فرما گئے ہیں کہ:۔
سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے                         سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صاف چُرا لیں یا وہ چور بلا کے ہیں                         تیری گٹھری تاکی ہے اور تُو نے نیند نکالی ہے
سونا پاس ہے سُونا پن ہے سونا زہر ہے اُٹھ پیارے                                تُو کہتا ہے نیند ہے میٹھی تیری مت ہی نرالی ہے
 آنکھیں مَلنا،جُنجھلا پڑنا، لاکھوں جماہی، انگڑائی                                                            نام پراُٹھنے کے لڑتا ہے اُٹھنا بھی کچھ گالی ہے

No comments: