ماہ صفر المظفر 1439 سنہ ہجری جاری ہےاس ماہ سے مسلمانوں کی بہت سی یادیں
وابستہ ہیں۔ ماہ صفر بہت سارے بزرگانِ دین رحمہم اللہ کے وصال کے حوالے سے اہم ہے، ان بزرگ ہستیوں
میں ایک نام امامِ عاشقاں، قبلہء ِ دل و
جاں، اعلٰی حضرت،عظیم البرکت،عظیم المرتبت،پروانہءِ شمعِ رسالت،حامیِ سُنّت،ماحیِ
بدعتِ، امامِ اہلِ سُنّت،امامِ عشق و محبّت،مجددِ دین و ملّت الشّاہ امام محمد
احمد رضا خاں علیہ الرحمۃالرحمٰن کا بھی ہے۔آپ کو فاضلِ بریلوی بھی کہا جاتا ہے،
آپ ہی کے مبارک مسلک کے مطابق عمل کرنے والوں کو بریلوی کہا جاتا ہے، یہاں میں ایک بات واضح کرتا چلوں
کے بریلویت کوئی الگ یا نیا مذہب نہیں بلکہ
یہ ایک پہچان ہےاور حقیقی مذہب اہلِ سنّت
ہی ہے۔ بنیادی طور پر مسلک کے معنیٰ "راستہ/طریقہ" کے ہیں ، اس دور میں
جب برِّصغیر پاک و ہند میں دینِ اسلام
مختلف فتنوں کی زَد میں تھا اور انگریزوں کی سرپرستی میں اسلام کو توڑ مڑوڑ کر پیش کیا جا رہا تھا،اللہ عزَّوجل کی شان میں گستا خیاں کی جا رہی تھیں،
اور پیغمبرِ اسلام ﷺکی عزت و عصمت پہ حملے کیے جا رہے تھے،عظمت صحابہ رضی اللہ
تعالٰی عنہم پہ تعن و تشنیع کے تیر برسائے جا رہے تھے،اولیاء اللہ رحمہم اللہ کے بارے میں نا حق دست اندازی کی جا
رہی تھی، حق و باطل میں فرق کرنا مشکل تھا، الغرض ہر طرف بے چینی کا عالم تھا،مسلمانانِ برّ
صغیر پریشان تھے کہ آخر کوئی تو ہو جو ان باطل اور دین و ایمان کے دشمن فتنوں کے
آگے بند باندھے۔
ایسے کڑے وقت میں
امام احمد رضا نے اپنے علم و حکمت، فہم و
فراست ، اور عشق رسول ﷺ کی بنا پر
حالات کی نزاکت کو سمجھا اور اپنے زورِ قلم سے
تن تنہاان تمام بلاؤں کا زبردست مقابلہ کیااور نہ صرف ان تمام باطل فتنوں کا رَد کیا بلکہ
مسلمانوں کےدلوںمیں عشقِ رسول صلی اللہ
علیہ وسلّم کی وہ شمع روشن کی کہ جس کو باطل آج تک اپنی تمام تر کوششوں کے
باوجود بجھا نہ سکا۔
اسی لیے توشاعر لکھتا ہے کہ:
شرک تھا جب ناز کرنا احمد مختار پر
نقطہ چین تھے لوگ علم سیّد ابرار پر
ہر ولی ہر غوث کو بے دست و پا سمجھا گیا
یا رسول اللہ کہنے پر بھی تھا فتوٰی شرک کا
کفر پر اک دن مشیّت کو جلال آہی گیا
آخر میرے آقا کی محبت کا سوال آ ہی گیا
صورتیں تسکیں کی نکلیں دلِ سیماب سے
ایک کرن پھوٹی اچانک چرخ پر مہتاب سے
اس کرن کو اہلِ دین احمد رضا کہنے لگے
اُمتِ ختم الرسل کا نا خدا کہنے لگے
اس کرن نے راہِ ایمان کو منوّر کر دیا
پھول تو ہیں پھول خاروں کو گلِ تر کر دیا
اے امامِ قوم، امت کے نگہبان زندہ باد
اے مفتئِ احمد رضا خاں زندہ باد
ایک محتاط اندازے کے مطابق آج بھی باطل قوّتیں آپ کی
تعلیمات کو دبانے کے لیے سالانہ 2 بلین
ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔آپ انڈیا کے شہربریلی کے رہنے والے تھےاورآپ چونکہ اس دورِ پر فتن میں حق و باطل میں فرق کی پہچان
تھے اسی وجہ سے آپ کے مسلک کے مطابق چلنے والوں کو آپ کی نسبت سے بریلوی کہا جانے لگا۔
امامِ اہلِسنّت
امام احمد رضا ایک نابغہء روزگار شخصیت کا نام ہے،آپ علم کی دنیا کے بادشاہ تھے،آپ
کو اللہ عزوجل نے ایسی ذہانت اور علم عطا فرمایا کہ دنیا آج تک ورطہء حیرت میں ہے،
آپ کو ایک ہی وقت میں 56 علوم پر دسترس حاصل تھی اور دسترس بھی ایسی کہ آپ ان علوم
کے ماسٹر تھے اور ان علوم پر آپ نے طبع اور غیر طبع شُدہ کم و بیش ایک ہزار1000 کتابیں تصنیف کی۔آپ کی
ذات کو بیان کرنا اتنا آسان کام نہیں کیونکہ آپ کی شخصیت بے پناہ خوبیوں اور
خداداد صلاحیتوں کی حامل تھی، بیک وقت آپ
کی ذات کے ساتھ بے شمار موضوعات جڑے ہوئے ہیں، آپ مترجم قرآن بھی تھے،مفسر بھی تھے
،محدّث بھی تھے ،فقیہہ بھی تھے ، مصلح بھی تھے ، محقق بھی تھے ، مفکّر بھی تھے ، مؤرخ
بھی تھے ، مجدّد بھی تھے ،فلسفی بھی تھے ،نعت گو شاعر بھی تھے ،ماہرِ فلکیات بھی
تھے ،ماہرِ لسانیات بھی تھے ، علمِ قرآن ، علمِ حدیث،علم فقہ، ریاضی ہو یا سائنس،
سیاست ہو یا معیشت،جغرافیہ ہو یا الجبرا،علم الاعداد ہو یا ہندسہ،علمِ توقیت ہو یا
علم النجوم الغرض ہر شعبے میں آپ کو عبور
حاصل تھا،آپ نے جس علم کے بارے میں قلم اُٹھایا
کمال کر دیا۔آپ نے "کنزالایمان" کے نام سے قرآنِ پاک کا وہ اردو
ترجمہ لکھا کہ قرآن کی ترجمانی کا حق ادا کردیا ، آج تک کوئی بھی اردو سمجھنے والا
اس جیسا ترجمہ نہ کر سکا۔ تصانیف میں آپ کا ایک اور شاہکارفقہ حنفی میں
"فتاوٰی رضویہ" ہے جس کی 30
جلدیں ہیں اور ہر جلد 800 سے 900 صفحات پر مشتمل ہے، "اسی فتاویٰ رضویہ کو دیکھ کر شاعرِ مشرق علّامہ محمد اقبال نے سر پر رکھتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ دوسرا امام ابو حنیفہ ہندوستان میں آ گیا ہے"۔ اسی طرح آپ کی تمام کتابیں
ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار ہیں،آپ کے علم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
اکثر لوگ آپ سے کوئی مسئلہ پوچھتے تو آپ اس سے متعلق ایک پوری کتاب لکھ دیتے۔
آپ ایک عظیم شاعر بھی تھے۔ آپ کی شاعری کا مرکز و محور
سوائے ذاتِ پاکِ مصطفیٰﷺ کہ کوئی نہ تھا،نعت گوئی میں آپ کا کوئی ثانی نہیں،آپ خود
ہی اپنے ایک شعر میں لکھتے ہیں کہ
یہ کہتی ہے بُلبُلِ باغِ جِناں کہ رضا کی طرح کوئی سحرِ
بیاں
نہیں ہند میں واصفِ شاہِ
ھُدٰی مجھے شوخیءِ طبعِ رضا کی قسم
آپ کی شاعری کا کمال یہ کہ آپ کا ہر ہر شعر یا تو کسی آیتِ
قرآنی کا ترجمہ ہے یا پھر کسی حدیثِ مصطفیٰﷺ کی تشریح ہے،یا تو کسی قرآنی واقعے کی
طرف اشارہ ہے یا پھر سیرتِ خاتم المرسلینﷺ کے کسی واقعے کو بیان کرتا ہے،یا تو
صحابہِ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اجمعین کے قول و فعل کو بیان کرتا ہے یا پھر
بزرگانِ دین کی تعلیمات کے مطابق ہے۔
آپ کے نعتیہ دیوان کا نام "حدائقِ بخشش" ہے۔آپ کا
لکھا ہوا سلام اذان کے بعد فضاؤں میں
گونجنے والا سب سے بڑا نغمہ ہے:۔
مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
سنہء 1900 میں آل انڈیا پٹنہ کانفرنس میں صوبہ بہار -یو پی انڈیا کےحضرت مخدوم شرف الدّین یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ کے گدّی نشین نے کم و
بیش پانچ ہزار5000 علماءو مشائخ کی موجودگی میں آپ کی دینِ اسلام کے لیے گرانقدر
خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ؎اس بات کا اعلان کیا کہ جو کمالا ت،وصف اور نشانیاں ایک مجدِّد کی ہو سکتی ہیں وہ تمام اس وقت امام
احمد رضا میں موجود ہیں اور تمام علماء و مشائخ نے اس اعلان کی تائید فرمائی اور آپ کو وقت کا مجدؔد تسلیم کیا۔ نہ
صرف برِّ صغیر پاک وہند بلکہ علماء و
مفتیانِ عرب بھی آپ کو اپنا امام تسلیم کرتے تھے۔


2 comments:
ماشاءاللہ بہت ہی زبردست مضمون
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری پر اللّٰہ رحمتوں کا نزول فرمائے
Post a Comment