Sunday, 8 October 2017

مسئلہ ختم نبوت اور پاکستانی پارلیمنٹ




پاکستان کی قومی اسمبلی میں جہاں عوام کے منتخب نمائندے عوام اور ملک کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے قانون سازی کرتے ہیں ،2 اکتوبر 2017 کو ایک بل پاس کیا  گیا ، جس میں الیکشن ریفارمز کے نام پر  حضور سیّدِ عالم  صلی اللہ علیہ وسلّم  کے آخری نبی ہونے کے بارے میں جو شق الیکشن فارم میں موجود تھی اس میں ترمیم کر دی گئی۔ لیکن جب معزز علما ءکرام اور عوام جس میں تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم   سرفہرست ہے نے اس کے خلاف پر زور آواز اٹھائی تو ارباب اختیار کو سمجھ آئی کہ اس قانون میں تبدیلی کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے، تب اسپیکر قومی اسمبلی نے اسے کلیریکل غلطی کا نام دے کر معاملے کو رفع کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی 4اکتوبر کو اس ترمیم کو ختم کرتے ہوئے الیکشن فارم  میں موجود اس شق کو دوبارہ  پچھلی حالت پر بحال کر دیا گیا۔ بعد میں کچھ لوگوں نے اپنے نمبر بنانے اور سیاست چمکانے کے لیے رنگ برنگے بیانات داغنے شروع کر دیے جن کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور چند دن اور جاری رہنے کے بعد ختم ہو جائے گا۔کچھ لوگوں نے یہ آواز اٹھائی ہے کہ اس معاملے میں ذمہ دار کا تعیّن کر کے اسے وزارت سے بر طرف کر دیا جائے، یعنی کہ ہمیشہ کی طرح ایک قربانی کا بکرا ذبح کر کے معاملے کو ختم کر دیا جائے، لیکن یہاں پر غور طلب بات یہ ہے کہ جب ایک سے زائد افراد پر قربانی واجب ہو تو پورے گھر کی طرف سے ایک بکرے کو قربان کر دینے سے واجب ادا نہیں ہوتا۔ پہلی بات جو غور کرنے کی ہے ،وہ یہ کہ  الیکشن ریفارمز  بل کسی ایک شخص کا کارنامہ نہیں ہے بلکہ یقینی طور پر اس میں کئی قابل اور عقلمند ہستیاں شامل ہوں گی، جو کہ سب کے سب اس معاملے میں ذمہ دار ہیں ۔ اور دوسری اہم بات یہ کہ ہمارے وہ محترم ممبرانِ اسمبلی جو کہ ہر بات پہ عوام کے مفاد اور عوامی توقعات کی بات کرتے ہیں  انھوں نے کیسے بغیر پڑھے  اور سمجھے اتنی اہم ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، لازمی طور پر ان غیر ذمہ دار اور غیر سنجیدہ ممبران قومی اسمبلی سے بھی جواب طلبی ہونی چاہیے۔لیکن یہ سب کر ےگا کون؟ کون ان لوگوں کو پوچھے گا؟
سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ آخر ختمِ نبوت کے معاملے کو چھیڑا ہی کیوں گیا ؟ آخر وہ کیا وجوہات تھیں جن کی بنا پر ختم نبوت سے متعلق حساس ترین شق میں تبدیلی کرنے کی  ضرورت پیش آئی؟  اگر کسی چیز کو تبدیل کرنا ہو اس میں تو کوئی غلطی سمجھ میں آ تی ہے لیکن ایک ایسا معاملہ جس پہ کسی مسلمان کو کوئی اعتراض نا ہو اور ممبران اسمبلی سمیت تمام مسلمان اس پر مطمئن ہوں تو اس میں تبدیلی کیوں ؟اور پھر اس تبدیلی میں کلیریکل غلطی کیسی؟ جہاں پر تبدیلی کی ضرورت ہی نہ ہو وہاں پر تبدیلی کریں گے تو پھر کلیریکل غلطی تو ہوگی نا۔ یقینی طور پر اب مسلمانو ںکو بیدار ہو جانا چاہیے کیونکہ  اب معاملہ صرف ملک اور سیاست کا نہیں بلکہ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اللہ عزوجل اور  رسول صلی اللہ علیہ وسلّم   کے نام پر بننے والے  اس پاکستان میں ہمارے ایمان پر حملے شروع کر دیے گئے ہیں ان حالات کے بارے میں اعلٰی حضرت  امامِ اہلسنّت مجددِ دین و ملت امام محمد احمد رضا خاں علیہ رحمۃالمنّان نے ہمیں جھنجھوڑتے ہوئےکہا تھا کہ
سُونا جنگل رات اندھیری، چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو، چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صاف چُرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھڑی تاکی ہے ،اور تو نے نیند نکالی ہے
سونا پاس ہے سُونا پن ہے سونا  زہر ہے اٹھ پیارے
تُو کہتا ہے نیند ہے میٹھی، تیری  مت ہی نرالی ہے
آنکھیں مَلنا، جُھنجھلا پڑنا، لاکھوں جماہی ،انگڑائی
نام پر اُٹھنے کے لڑتا ہے، اُٹھنا بھی کچھ گالی ہے
امام احمد رضا خاں علیہ رحمۃالمنّان   نے کس خوبصورت انداز میں ہمیں خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کی ہے اب  وقت  کی ضرورت ہے کہ ہم لوگ امام اہلسنّت کی نصیحت کو ہر وقت پیش نظر رکھیں ،اور اپنا ایمان بچانے کے لیے دنیاوی اور وقتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آئندہ ووٹ صرف اسی کو دیں جو آپ کے ملک کے ساتھ ساتھ ایمان کی سرحدوں کا بھی محافظ ہو۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ایسے حکمران عطا فرمائے جو عملی طور پر مسلمان ہوں اور صحیح معنوں میں اسلام کے اصولوں کو نافذ کرنے والے ہوں۔

No comments: