حضرت سیدنا قاسم بن
عثمان علیہ الرحمۃالرحمٰن کا بیان ہے کہ
میں نے بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا،جب میں اس کہ قریب گیاتو
وہ صرف یہ کلمات کہہ رہا تھا: اے اللہ عزوجل! تو نے حاجت مندوں کی ضروریات کو پورا
کر دیا لیکن میری حاجت پوری نہیں ہوئی۔ میں نے اس سے پوچھا : کیا وجہ ہے کہ تم اس
کے علاوہ کوئی دعا نہیں پڑھتے؟اس نے کہا : میں آپ کو اپنا واقعہ سناتا ہوں، ہم سات
رفقا تھے جو مختلف شہروں سے تعلق رکھتے تھےاور دشمن کی سرزمین پر جہاد میں مصروف
تھےکہ دشمنوں نے ہم ساتوں کو قید کر لیا اور ہماری گردنے اڑانے کے لئے ہمیں الگ لے
جایا گیا۔میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ سات دروازے کھلے ہوئے ہیں
اور ہر دروازے پر موٹی آنکھوں والی حوروں میں سے ایک حور موجود ہے۔ ہم میں سے ایک شخص آگے بڑھا تو ان لوگوں نے اس کی گردن اڑا
دی،میں نے دیکھا کہ ایک حور جس کے ہاتھ میں رومال ہے زمیں کی طرف اتر رہی ہے۔ ایک
ایک کر کے چھ افراد کو شہید کر دیا گیا،اب میں اکیلا رہ گیا تھا جبکہ سات دروازوں
اور حوروں میں سے بھی ایک ایک باقی تھے۔ جب میں آگے بڑھا تو بادشاہ کے خاص مصاحبین
میں سے ایک شخص نے مجھے اس سے طلب کر لیا اور بادشاہ نے مجھے اس کے حوالے کر دیا۔میں
نے سنا کہ وہ حور کہہ رہی ہے: اے محروم شخص!کس وجہ سے تواس سعادت سے پیچھے رہ گیا،
پھر وہ دروازہ بند کر دیا گیا۔ اے میرے بھائی! جو دولت میرے ہاتھ سے نکل گئی میں
اس پر افسردہ ہوں۔ حضرت سیدنا قاسم بن عثمان علیہ الرحمۃالرحمٰن نے ارشاد
فرمایا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ شخص بقیہ چھ سے افضل ہے کیونکہ اس نے وہ
دیکھا جو انہیں نہ دکھائی دیا اور پھر اسے چھوڑ دیا گیا کہ شوق کے ساتھ عمل کرے۔
پانچ مدنی پھول:
حضرت سیدنا قاسم بن
عثمان علیہ الرحمۃالرحمٰن نے اپنے اصحاب
سے ارشاد فرمایاکہ میں تمہیں پانچ باتوں
کی نصیحت کرتا ہوں:(1)—اگر تم ظلم کیا جائے تو جواب میں تم ظلم نہ کرو (2)—اگر تمہاری
تعریف کی جائے تو خوش نہ ہو(3)—مذمت کی جائے تو غم نہ کرو(4)—اگر تم سے جھوٹ بولا
جائے تو غصّے میں مت آؤ (5)—اور اگر کوئی تمہیں دھوکا دے تو تم دھوکا مت دو۔


No comments:
Post a Comment